LAHORE: APR 4, 2026
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دورہ لاہور کے موقع پر گورنر ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بیٹ رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی، معاشی اور آئینی امور پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
سابق ایم پی اے عائشہ نواز چوہدری، ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی وسطی پنجاب احسن رضوی اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی لاہور احمد گھمن بھی اس موقع پر موجود تھے ۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری پالیسی کا اثر صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے اثرات عام عوام تک بھی پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر ترقیاتی منصوبوں پر نظرثانی ناگزیر ہو چکی ہے۔سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اڑھائی سال کا کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اگر پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی تو ضرورت پڑنے پر مسلم لیگ (ن) ہمارے ساتھ ہوگی ۔انہوں نے گورنر کے اختیارات کے حوالے سے کہا کہ فاٹا انضمام سے قبل گورنر کے پاس وسیع اختیارات تھے، تاہم اب صورتحال مختلف ہے اور اختیارات محدود ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خود گورنر کے پاس بھی مکمل وضاحت نہیں کہ موجودہ اختیارات کی حدود کیا ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں واک آؤٹ کیسے کر سکتی ہے جبکہ اگلے ہی دن حکومتی بل کی منظوری کے لیے ووٹ بھی دینا ہوتا ہے۔انہوں نے کفایت شعاری کے حوالے سے کہا کہ اگر ریٹائرڈ ججوں کو اضافی پٹرول کی سہولت دی جا رہی ہے تو اس میں کمی لائی جا سکتی ہے تاکہ قومی وسائل کا بہتر استعمال ہو۔
سیاسی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی پنجاب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے تو بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنایا جا سکتا ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے ملنے والی نشستیں اضافی فائدہ ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنانے کے لیے بھرپور سیاسی ورکنگ کر رہی ہے اور سندھ میں مزید نشستوں کی گنجائش بھی موجود ہے۔نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر نئے صوبے بنے تو وہ آئین کے مطابق بنائے جائیں گے۔ 28ویں آئینی ترمیم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی متفقہ ڈرافٹ سامنے نہیں آیا اور ہر جماعت کے پاس اپنا مسودہ موجود ہے۔
عالمی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگوں میں دعوے اور بیانیے چلتے رہتے ہیں اور ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بنائی گئی “رہائی فورس” کے حوالے سے خود پارٹی کے اندر بھی اتفاق رائے موجود نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ فورس اڈیالہ جیل پر حملہ کرے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی “ٹائیگر فورس” جیسے اقدامات کیے گئے اور اب عوام کو ایک بار پھر غیر حقیقت پسندانہ دعوؤں کے پیچھے لگایا جا رہا ہے۔گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کا کسی کے ساتھ “مک مکا” نہیں ہوا اور پارٹی اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
<<<<<>>>>>